
A young man named Ghufran, only 40 years old, arrived at the hospital suffering from a heart attack. After performing an angiography, the doctor stated: "Three arteries are blocked. A bypass must be performed immediately." His brother asked the doctor: "Doctor Sahab! Why and how did all this happen so suddenly..?" The doctor replied: "Nothing actually happened suddenly. Due to a lack of dietary caution, your brother's blood fat levels have reached dangerously high levels, and this is the result of that."
Besides the brother, other relatives and close associates were standing by Ghufran's bed listening to this dialogue. Upon seeing them, he said sheepishly: "Brother, these hospital people are just looting us; I only used to eat things like Biryani with a bit of passion." Dear readers! I was astonished to hear this sentence. Was it truly just a matter of "Biryani and such"..? Look, more than three hundred thousand people die of heart attacks in Pakistan every year. Have we ever thought that these statistics are actually the result of our wrong eating habits..?
An anchor hosted a program with a famous heart specialist of the country and asked him: "Doctor Sahab! Tell us, what is the most common cause of heart disease..?" He immediately said: "Our lifestyle!" "What do you mean..?" The anchorperson asked in surprise, and the doctor explained that 90 percent of our patients are victims of excessive use of oil, sugar, and salt. Just think! What a tragedy it is that we are destroying our hearts for the sake of the taste in our mouths..? Are we playing with our lives for the pleasure of our tongues..?
An acquaintance of ours was saying that he spent all the savings he had earned in the last 10 years on hospitals. I was very surprised. I asked: "Brother, how so..? You didn't even have a major accident..?" He told me this happened because of diabetes and blood pressure. The hospital people looted 50 lakhs. I still couldn't believe his words, but when I asked about his diet, it turned out that the gentleman puts two cups of sugar in his sweets daily. He eats tikka kababs four days a week. In the morning breakfast, he definitely takes butter with paratha, and exercise is non-existent!!
Dear readers! Now I say nothing, you decide for yourself what the result will be...? Do you know that the number of diabetes patients in our beloved homeland has exceeded thirty million..? This rate of diabetes patients is not only very high here, but it is the highest in the world. The sad part is that four hundred thousand new patients are being added to this list every year. But this is no accident or coincidence, friends! This is a story of a cheap murder that we are writing with our own hands.
There were two friends; one said: "My friend! Now age is passing, start being cautious with food. I have started eating vegetables myself and along with that, I exercise regularly with punctuality." The second one said: "Partner, what is the fun of living if I don't eat paratha and nihari...?" Today, the first person is as young as a youth even at the age of 60, and the second one has suffered three heart attacks by the age of 50. The only difference was that one controlled the taste, the other became a slave to taste. But the question arises, why are we doing this..? The reason is that we have made food not just a means of filling the stomach but a source of entertainment.
We eat to celebrate happiness...
We eat to mourn...
We eat when we gather...
We eat to remove boredom...
We eat to wake up hunger...
We eat to digest...
Seeing this situation, anyone can easily decide that the reality is that 70 percent of our diseases are the result of our food. Dear readers! Do you know that an average Pakistani uses 25 to 30 kg of sugar annually, while the amount suggested by the World Health Organization is only eight to nine kg? This means we have gone far beyond the amount suggested by the World Health Organization, using more than three times that amount. This is the poison running through our veins.
So friends! Can we stop this dietary suicide..? Can we return toward our health..? I think yes! We just have to adopt four principles:
First: Make a habit of exercising regularly every day. Exercise for at least 30 minutes daily in any case.
Second: Minimize the use of sugar and oil.
Third: Use fruits and vegetables.
Fourth: Get a full medical check-up at least annually.
So dear readers! Let us decide together that we will make our health our first priority. Decide today that we will not be slaves to tastes but protectors of health. Remember, the nation that kneels before its tongue remains kneeling before doctors for a lifetime.
"صرف بریانی" کا مغالطہ اور صحت کی حقیقت
غفران نامی وہ جوان 40 سال کا تھا اور دل کے دورے سے ہسپتال پہنچا تھا۔ ڈاکٹر نے اینجیوگرافی کرنے کے بعد کہا: "تین شریانیں بند ہیں۔ فوراً بائی پاس کروانا ہوگا۔" اس کے بھائی نے ڈاکٹر سے پوچھا: "ڈاکٹر صاحب! اچانک یہ سب کیوں اور کیسے ہو گیا۔۔؟" ڈاکٹر نے جواب دیا: "اچانک تو خیر کچھ بھی نہیں ہوا۔ بدپرہیزی کی وجہ سے آپ کے بھائی کے خون میں چکنائی کی سطح خطرناک حد تک زیادہ ہو گئی ہے اور یہ اسی کا کمال ہے۔" بھائی کے علاوہ دیگر رشتہ دار و اقارب بھی غفران کے بستر کے پاس کھڑے تھے اور یہ مکالمہ سن رہے تھے، اس نے انہیں دیکھتے ہی کھسیانہ سا ہو کر کہا: "بھئی یہ تو ہسپتال والے لوٹ رہے ہیں، میں تو صرف بریانی وغیرہ ہی ذرا شوق سے کھا لیتا تھا۔" قارئین کرام! یہ جملہ سن کر میں حیران رہ گیا۔ کیا واقعی یہ صرف "بریانی وغیرہ" کا معاملہ تھا۔۔؟ دیکھئے پاکستان میں ہر سال تین لاکھ سے زیادہ افراد دل کے دورے سے مرتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ اعداد و شمار درحقیقت ہماری کھانے پینے کی غلط عادات کا نتیجہ ہے۔۔؟
طرزِ زندگی کا بحران اور غفلت کی بھاری قیمت
ملک کے ایک مشہور ہارٹ اسپیشلسٹ کے ساتھ ایک اینکر نے پروگرام کیا اور اس سے پوچھا: "ڈاکٹر صاحب! یہ بتائیے کہ دل کی بیماری کی سب سے عام وجہ کیا ہے۔۔؟" انہوں نے جھٹ سے کہا: "ہمارا طرز زندگی!" "کیا مطلب۔۔؟" اینکر پرسن نے حیران ہو کر پوچھا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ دیکھیے ہمارے 90 فیصد مریض تیل، چینی اور نمک کے زیادہ استعمال کا شکار ہوتے ہیں۔ ذرا سوچیے! یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم اپنے منہ کے ذائقے کے لیے اپنے دل کو تباہ کر رہے ہیں۔۔؟ ہم اپنی زبان کی خوشی کے لیے اپنی زندگی سے کھیل رہے ہیں۔۔؟
ہمارے ایک جاننے والے ہیں جو کہہ رہے تھے کہ میں نے پچھلے 10 سالوں میں جو کچھ کمایا تھا، اپنی وہ ساری جمع پونجی ہسپتالوں پر لگا دی۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میں نے پوچھا: "بھائی یہ کیسے۔۔؟ تمہارا تو کوئی بڑا ایکسیڈنٹ بھی نہیں ہوا۔۔؟" انہوں نے بتایا یہ سب شوگر اور بلڈ پریشر کی وجہ سے ہوا ہے۔ ہسپتال والوں نے 50 لاکھ لوٹ لیے۔ مجھے تاحال ان کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا لیکن جب میں نے ان کی غذا کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ جناب روزانہ میٹھے میں دو چائے کے کپ چینی ڈالتے ہیں۔ ہفتے میں چار دن تکے کباب کھاتے ہیں۔ صبح ناشتے میں پراٹھے کے ساتھ مکھن ضرور لیتے ہیں اور ورزش ندارند!!
دو انتخاب کی داستان اور بحالی کا راستہ
قارئین کرام! اب میں کچھ نہیں کہتا آپ خود فیصلہ کیجئے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔۔۔؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ وطن عزیز میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تین کروڑ سے متجاوز ہو چکی ہے۔۔؟ شوگر کے مریضوں کی یہ شرح نہ صرف ہمارے ہاں بہت زیادہ ہے بلکہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہر سال چار لاکھ نئے مریض اس فہرست میں شامل ہو رہے ہیں۔ مگر یہ کوئی حادثہ یا اتفاقیہ بات نہیں ہے دوستو! یہ تو ایک سستے قتل کی داستان ہے جو ہم خود اپنے ہاتھوں سے لکھ رہے ہیں۔
دو دوست تھے ایک نے کہا: "میاں! اب عمر ڈھل رہی ہے، غذاؤں میں احتیاط شروع کر دیں۔ میں نے تو خود سبزیاں کھانی شروع کر دی ہیں اور اسی کے ساتھ روزانہ پابندی کے ساتھ ورزش کرتا ہوں۔" دوسرے نے کہا: "یار جینے کا مزہ ہی کیا ہے اگر پراٹھے اور نہاری نہ کھاؤں۔۔۔؟" آج پہلا شخص 60 سال کی عمر میں بھی جوانوں جوان ہے اور دوسرا 50 سال کی عمر میں تین بار ہارٹ اٹیک کا شکار ہو چکا ہے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ ایک نے ذائقے کو کنٹرول کیا، دوسرا ذائقے کا غلام بن گیا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم ایسا کیوں کر رہے ہیں۔۔؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے کھانے کو محض پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ تفریح کا سامان بنا لیا ہے۔
ہم خوشی منانے کے لیے کھاتے ہیں۔۔۔
غم منانے کے لیے کھاتے ہیں۔۔۔
اکٹھے ہو جائیں تو کھاتے ہیں۔۔۔
بوریت دور کرنے کے لیے کھاتے ہیں۔۔۔
بھوک جگانے کے لیے کھاتے ہیں۔۔۔
ہضم کرنے کے لیے کھاتے ہیں۔۔۔
یہ صورتحال دیکھ کر کوئی بھی بآسانی فیصلہ کر سکتا ہے کہ حقیقت یہی ہے کہ ہماری 70 فیصد بیماریاں ہماری خوراک کا نتیجہ ہے۔ قارئین کرام! کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک عام پاکستانی سالانہ 25 سے 30 کلو چینی استعمال کرتا ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ مقدار صرف آٹھ سے نو کلو ہے یعنی ہم عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ مقدار سے بھی بہت آگے بڑھ گئے ہیں کہ اس مقدار کے تین گنا سے بھی زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ یہی وہ زہر ہے جو ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔
تو دوستو! کیا ہم اس غذائی خودکشی کو روک سکتے ہیں۔۔؟ کیا ہم اپنی صحت کی طرف واپس لوٹ سکتے ہیں۔۔؟ میرا خیال ہے ہاں! بس ہمیں چار اصول اپنانے ہوں گے:
پہلا: روزانہ پابندی کے ساتھ ورزش کی عادت بنائیں۔ کم از کم 30 منٹ تو روزانہ ہر حال میں ورزش کریں۔
دوسرا: چینی اور تیل کا استعمال کم سے کم کریں۔
تیسرا: پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کریں۔
چوتھا: کم از کم اپنا سالانہ مکمل میڈیکل چیک اپ کرائیں۔
تو قارئین کرام! آئیے مل کر فیصلہ کریں کہ ہم اپنی صحت کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں گے۔ آج ہی طے کریں کہ ہم ذائقوں کے غلام نہیں صحت کے محافظ بنیں گے۔ یاد رکھیں جو قوم اپنی زبان کے آگے گھٹنے ٹیک دیتی ہے وہ عمر بھر ڈاکٹروں کے آگے بھی گھٹنے ٹیکے رہتی ہے۔